بنگلورو۔ 9فروری(ایس او نیوز) کرناٹک میں حجاب معاملہ کو لے کر کانگریس قائد ڈی کے شیوکمار نے بی جے پی پر سنگین الزام عائد کرواتے ہوئے کہا کہ شیموگہ میں حجاب کی مخالفت کرنے کے لئے طلباء کو ا کسا کر ان میں زعفرانی شالوں کی تقسیم کرنے والا کوئی اور نہیں ، ایک ریاستی وزیر کا فرزند ہے۔ جس کے بعد اس شہر میں حالات بگڑ گئے۔ شیموگہ میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیموگہ ضلع کے ایک وزیر کے فرزند نے بڑی تعداد میں زعفرانی شال منگوائے اور ان کو طلباء میں تقسیم کر کے ان کو لازمی طور پر پہنے کے لئے اکسایا۔
انہوں نے کہا کہ جب ریاست میں انتخابات ہوں گے اس وقت تمام سیاسی جماعتیں مل کر سیاسی کھیل کھیلیں گے ، لیکن اب بے گناہ طلباء کو گندی سیاست کے لئے استعمال کرنے سے گریز کریں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ تعلیم کیلئے اداروں کا رخ کرنے والے طلباء و طالبات کے ذہنوں میں زہر کیوں بھرا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مذہب اور اس کے جذبات کا احترام کیا جانا چاہئے اور کانگریس پارٹی اس کی پابند ہے۔ بحیثیت رکن اسمبلی حلف لیتے ہوئے تمام طبقات کے ساتھ انصاف لینے کا جو اقرار کیا جا تا ہے کانگریس کا ہرمنتخب نمائندہ اس کا پابند رہے گا ،لیکن افسوس کہ حکمران پارٹی کے اراکین نے اس کو فراموش کر دیا ہے ۔
شیموگہ میں قومی پرچم لہرانے کے کھمبے پر بھگوا پرچم لہرائے جانے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ طلباء کو اس طرح کی حماقت نہیں کرنی چاہئے تھی ۔انہوں نے کہا کہ فلیگ پول سرکاری املاک ہے ،اس پر ہر طرح کا پرچم نہیں لہرایا جا سکتا ، یہ قومی پرچم کے لئے ہی مخصوص ہے ۔ اس دوران بدھ کے روز این ایس یو آئی کے کارکنوں نے اس کالج کے احاطے میں موجود فلیگ پول پر دوبارہ قومی پرچم لہرایا اور قومی ترانہ پڑھ کر سلامی پیش کی ۔